Showing posts with label تزکیہ وتربیت. Show all posts
Showing posts with label تزکیہ وتربیت. Show all posts

Friday, 27 April 2012

سونا اور نمازِ فجر کا ناغہ

سونا اور نمازِ فجر کا ناغہ
شیخ محمد صالح المنجد، ’’مسائل اور حل‘‘

ترجمہ:ثاقب شاہ
نظرثانی: مولانا عمران اصغر صاحب

اس مسئلہ کا حل ، دیگر مسائل کی طرح دو پہلو رکھتا ہے، پہلانظریاتی اور دوسرا عملی۔
نظریاتی پہلو کو مزید دو حصوں میں بیان کیا جاسکتا ہے: 
(1)     مسلمانوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں نمازِ فجر کی بڑی اہمیت ہے۔
نبیﷺنے فرمایا: ’’جو جماعت کے ساتھ نمازِفجر ادا کرتا ہے،تو  گویا اس نے تمام رات عبادت کی ۔‘‘(مسلم،ص۔454، نمبر656؛ الترمذی،221)
نبیﷺنے یہ بھی فرمایا: ’’منافقین کے لیے سب سے زیادہ بھاری نمازیں، نمازِ عشاء اور نمازِ فجر ہیں،لیکن اگر وہ یہ جانتے جو وہ رکھتے ہیں(یعنی ان نمازوں پراجرکاملنا) تو وہ ضرور(نماز پڑھنے)آتےچاہے انہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا۔‘‘(امام احمد، المسند،2/424؛ صحیح الجامی،133۔)

Wednesday, 4 January 2012

دماغی اندھا پن

دماغی اندھا پن

ریحان احمد یوسفی


اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو حواس خمسہ عطا فرمائے ہیں ، ان میں دیکھنے کی صلاحیت سب سے زیادہ اوراہم فائدہ مند ہے ۔اس صلاحیت کی مدد سے انسان سب سے بڑ ھ کر خارجی دنیا سے استفادہ کرتا اور اس کے بارے میں جان پاتا ہے ۔انسان کی اس صلاحیت کا انحصار تین چیزوں پر ہوتا ہے ۔ ایک یہ کہ خارج میں روشنی موجود ہوجو اشیا پر پڑ نے کے بعد انسان تک پہنچے ۔ دوسرے اس کی آنکھیں جو روشنی کی مدد سے اپنے پردہ بصری پر چیزوں کا ایک عکس بناتی ہیں ۔ جبکہ تیسری چیز انسا ن کا دماغ ہے جو اس منظر کو اپنے انتہائی پیچیدہ نظام سے گزار کر قابل فہم بناتا ہے ۔جس کے بعد انسان کا اعصابی نظام کسی ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے ۔

ٹوٹنے کے بعد


ٹوٹنے کے بعد
مولانا وحید الدین خان
Bottom of Form

مادہ کی آخری اکائی ایٹم ہے ۔جس طرح سماج کی آخری اکائی فردہوتا ہے ۔اگرہم ایٹم کوتوڑ نے میں کامیاب ہوجائیں توہم اس کوفنانہیں کرتے ۔بلکہ اس کوایک نئی اورزیادہ بڑ ی قوت میں تبدیل کر دیتے ہیں ۔جس کانام جوہری توانائی(Atomic energy)ہے ۔مادہ منجمدتوانائی ہے اورتوانائی منتشرمادہ۔مادہ اپنی ابتدائی شکل میں جتنی قوت رکھتا ہے ، اس کے مقابلے میں اس وقت اس کی قوت بہت بڑ ھ جاتی ہے جب اس کے ایٹموں کوتوڑ کرجوہری توانائی میں تبدیل کر دیاجائے ۔

Sunday, 20 November 2011


عمل کی حقیقت

خالد رحمٰن

سوار تیزی سے ان ہی کی جانب آرہا تھا۔ نبیﷺ نے اسے دیکھا تو صحابہؓ  سے فرمایا! لگتا ہے کہ یہ تمہارے ہی ارادے سے آرہا ہے۔
تھوڑی ہی دیر میں سوار قریب آپہنچا۔ آتے ہی اس نے سلام کیا۔ نبیﷺ اور صحابہؓ  نے سلام کا جواب  دیا اور نبیﷺ نےدریافت کیا کہاں سے آئے ہو؟
اپنے گھر، اولاد اور قبیلے کے پاس سے آرہا ہوں! سوار نے جواب دیا۔
کہاں کا ارادہ ہے؟ آپﷺ نے دریافت کیا!

Thursday, 10 November 2011

جہیز


جہیز

خالد رحمٰن

نبیﷺ کی چار صاحبزادیاں تھیں۔ چاروں ہی بڑی ہوئیں اور اپنے اپنے وقت پر ان کی شادیاں ہوگئیں۔
حضرت فاطمہؓ   کا نکاح آپﷺ نے حضرتؓ علی سے کیا تونکاح کے موقع پر آپﷺ نے اپنی جانب سے حضرت فاطمہؓ   کو ایک چادر، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ دیا۔ بعض روایات کے مطابق اس کے علاوہ پینے کا پیالہ بھی اس سامان میں شامل تھا۔

Wednesday, 19 October 2011

مسجد سے بچوں کا تعلق

مسجد سے بچوں کا تعلق
ڈاکٹر ممتاز عمر

ہمارے معاشرے میں ناخواندگی کے بادل چھٹتے جارہے ہیں، علم کا نور بہ تدریج پھیل رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ چھوٹی عمر سے بچوں کا تعلیمی ادارے سے تعلق ہے۔ اب تین سال کے بچے کو نرسری اور کے جی کی راہ دکھائی جانے لگی ہے۔ اس کے برعکس مساجد میں چھوٹے بچوں کے ساتھ رویّہ عام مسلمان اور علما سب کے لیے قابلِ غور ہے۔
رسول کریمؐ
 کی ہدایت کے تحت تلقین کی جاتی ہے کہ ’’سات سال کے بچے کو مسجد میں نماز کے لیے لاؤ‘‘۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۱ سال کے بچے کو مسجد میں ضرور لایا جائے۔ اگر بچہ آنے میں پس و پیش کرے تو اس پر سختی کی جائے، اس میں مارپیٹ کی اجازت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو انگلی پکڑے مساجد کی طرف لے جایا کرتے تھے۔ یہ رواج نمازِ جمعہ اور عیدین میں خصوصیت کے ساتھ دیکھنے میں آتا رہا۔ عام نمازوں میں والدین بچوں کو لانے سے ہچکچاتے ہیں۔