Showing posts with label مذہبی کلچر. Show all posts
Showing posts with label مذہبی کلچر. Show all posts

Wednesday, 4 January 2012

شکوہ کے بجائے شکر


شکوہ کے بجائے شکر

ریحان احمد یوسفی

انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہر گھڑ ی اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی ان گنت نعمتوں میں جیتا ہے ۔ ہاتھ پاؤں جیسے اعضا، دیکھنے سننے جیسی قوتیں ، ذہن و زبان جیسی صلاحیتیں ، مال و اولاد جیسی نعمتیں ، میاں بیوی جیسے رشتے ، یہ سب وہ کرم نوازیاں ہیں جوساری زندگی انسان کو بلا استحقاق ملتی رہتی ہیں ، مگر انسانوں میں سے شاذ ہی ہوں گے جو ان نعمتوں پر دل و جان کی گہرائی سے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوں ۔

شاپنگ کلچر


شاپنگ کلچر

ریحان احمد یوسفی


 تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانوں کی زندگی کا مرکز مختلف چیزیں رہی ہیں ۔ ایک دور وہ تھا جب انسان خارج میں موجود مخلوقات کو معبود کے مقام پر رکھتا اور انہی کی رضا و خوشنودی کو اپنی زندگی کا نصب العین بناتا تھا۔یہ زیادہ ترزارعتی دوریا اگریکلچرل ایج کا زمانہ تھا۔ اس دور میں رائج کلچر کو ہم معبود کلچر کہہ سکتے ہیں ۔پھرصنعتی دور یا اینڈسٹریل ایج کا زمانہ آیا جب انسان ان سارے خداؤں سے فارغ ہو گیا۔اس دور میں مخلوقات عبادت کا نہیں بلکہ تحقیق کا موضوع بن گئیں ۔یہ وہ دور تھا جس میں کائنات انسانی فکر و فہم کا مرکز نگاہ بن گئی۔ایجادات اور تحقیقات نے دنیا بدل کر رکھ دی اور کل کائنات انسان کے لیے مسخر ہوگئی ۔ چنانچہ اس کلچر کو ہم تسخیر کائنات کلچر کہہ سکتے ہیں ۔