Showing posts with label حکمت. Show all posts
Showing posts with label حکمت. Show all posts

Tuesday, 28 February 2012

مغرب کا اسلام سے عناد

مغرب کا اسلام سے عناد

حکمت مودودیؒ
یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس شخصیتوں اور ان کی الہامی تعلیمات پر کبھی دل آزار تنقید نہیں کی گئی۔ مسلمان حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام اور تمام انبیاے بنی اسرائیل اور حضرت عیسٰی اور یحییٰ علیہم السلام کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں، اور ان پر ایمان لانا ویسا ہی ضروری سمجھتے ہیں جیسا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔

Sunday, 12 February 2012

مردوں کے کان

مردوں کے کان

ریحان احمد یوسفی

 اردو زبان میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ مردوں کے کان ہوتے ہیں آنکھیں نہیں ہوتیں ۔ یہ کہاوت ظاہرہے خاندانی جھگڑ وں میں مردوں کے کردار کا بیان ہے ، مگر درحقیقت یہ ایک ایسی انسانی کمزوری کا بیان ہے جس پر اگر قابو نہ پایاجائے تو معاشرہ ہر پہلو سے انتشار کا شکار ہو سکتا ہے ۔

Thursday, 2 February 2012

کیا ہم معیاری نصابی کتابیں نہیں لکھ سکتے؟

کیا ہم معیاری نصابی کتابیں نہیں لکھ سکتے؟

اشتیاق احمد

مجھے یہ جان کر انتہائی دکھ ہوا کہ وطن عزیز کے کچھ دانشور(بزعم خویش) غیر ملکی مصنفیں کی تحریر کردہ نصابی کتب پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بطور نصاب رائج کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی تسلیم شدہ معیاری کتب(Recognized standard book)ہیں۔

Wednesday, 4 January 2012

بن دیکھے کا سودا

بن دیکھے کا سودا

ریحان احمد یوسفی

 پچھلے دنوں ای میل پر ایک دلچسپ حکایت موصول ہوئی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہارون الرشید بادشاہ اپنی بیگم زبیدہ خاتون کے ہمراہ دریا کنارے ٹہل رہے تھے کہ ان کی ملاقات ایک معروف بزرگ بہلول سے ہوگئی۔بہلول ریت پر گھر بنا رہے تھے ۔ انہوں بادشاہ سے کہا یہ گھر ایک دینار میں خریدلو ۔میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں جنت میں ایک گھر عطا کر دے ۔ بادشاہ نے اسے دیوانے کی بڑ سمجھا اور آگے بڑ ھ گئے ۔ البتہ ملکہ نے انھیں ایک دینار دے کر کہا کہ میرے لیے دعا کیجیے گا۔

Tuesday, 20 December 2011

زندگی کی ملازمت

زندگی کی ملازمت

ریحان احمد یوسفی

ایک صاحب کسی دفتر میں ملازم تھے۔ان کے معاملات وہاں اچھی طرح چل رہے تھے۔ مگر انہیں آہستہ آہستہ کچھ شکایات پیدا ہونا شروع ہوئیں۔

Monday, 28 November 2011

انقلاب کی راہ میں اصل رکاوٹ


انقلاب کی راہ میں اصل رکاوٹ

سید ابواعلیٰ مودودی

اسلام کی دعوت جب عرب میں پیش کی گئی تھی، اس وقت اس کی مخاطب آبادی تقریباً
۱۰۰فی صد اَن پڑھ تھی۔ قریش جیسے ترقی یافتہ قبیلے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں صرف ۱۷ افراد پڑھے لکھے تھے۔ مدینے میں اس سے بھی کم لوگ تعلیم یافتہ تھے اور باقی عرب کی حالت کا اندازہ آپ ان دو بڑے شہروں کی حالت سے کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید اس ملک میں لکھ کر نہیں پھیلایا گیا تھا بلکہ وہ لوگوں کو زبانی سنایا جاتا تھا۔ صحابہ کرامؓ اس کو سن کر ہی یاد کرتے تھے اور پھر زبانی ہی اسے دوسروں کو سناتے تھے۔ اسی ذریعے سے پورا عرب اسلام سے روشناس ہوا۔ پس درحقیقت لوگوں کا اَن پڑھ ہونا کوئی ایسی دشواری نہیں ہے جس کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ نہ ہوسکتی ہو۔