فاسد ماحول:ایمان کا مطالبہ
فاسد ماحول میں کسی مرد
کی حیاداری اور کسی خاتون کی عصمت پسندی کو ساری عمر چومکھی لڑائی لڑنی پڑتی ہے۔
بے حیائی ہرسمت سے نئے نئے اسلحے کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے اور بار بار حملہ آور
ہوتی ہے۔ وہ بناؤسنگھار کرکے نکلتی ہے، وہ نمایش اور مظاہرے کی اسپرٹ کے ساتھ آگے
بڑھتی ہے،وہ شعر کا لباس پہنتی ہے، وہ افسانے کا بہروپ بھرتی ہے، وہ صحافت اور ادب
کے ایوان میں مسند آرا ہوتی ہے، وہ اشتہاروں میں نمایاں ہوتی ہے، وہ تصویر کا
کاغذی پیرہن زیبِ بدن کرتی ہے، وہ رقص گاہوں میں ناچتی ہے،وہ مینابازار لگاتی ہے،و
ہ کیمروں کے سامنے پریڈیں کرتی ہے،وہ ضیافتوں اور دعوتوں اور تقریبوں میں پیش پیش
رہتی ہے، وہ سینماؤں میں ہنگامے مچاتی ہے اور وہ ریڈیو سے طوفانِ صوت بن کر بہتی
ہے۔