وقت کی قدروقیمت
محمد
بشیر جمعہ
۱۔ عامر
بن قیس ایک زاہد تابعی تھے۔ ایک شخص نے ان سے کہا ’’آؤ بیٹھ کر باتیں کریں۔‘‘
انہوں نے جواب دیا ’’تو پھر سورج کو بھی ٹھہرالو۔‘‘ یعنی زمانہ تو ہمیشہ متحرک
رہتا ہے اور گزرا ہوا زمانہ واپس نہیں آتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے کام سے غرض رکھنی
چاہیے اور بے کارباتوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
۲۔ شیخ محمد بن سلام
البیکندی، امام بخاریؒ کے شیوخ میں سے تھے۔ ایک دفعہ ان کا قلم ٹوٹ گیا تو انہوں
نے صدا لگائی کہ مجھ کو نیا قلم ایک دینار میں کون دیتاہے۔ لوگوں نے ان پر نئے
قلموں کی بارش کردی۔ یہ ان کی دریا دلی کا حال تھا کہ وہ ایک قلم کو ایک دینار(اس
دور کی خطیر رقم) کے بدلے خریدلیتے تاکہ لکھتے لکھتے ان کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ
ہو اور ان کے خیالات کا تسلسل جاری رہے۔