Showing posts with label وقت کی قدروقیمت. Show all posts
Showing posts with label وقت کی قدروقیمت. Show all posts

Tuesday, 14 February 2012

کچھ اورکرنا ہے


کچھ اورکرنا ہے

مولانا وحید الدین خان

اٹھارویں صدی میں جن انگریزوں کی سرفروشی نے ہندوستان کو برطانیہ کی نوآبادی بنایا ان میں لارڈرابرٹ کلاؤ(1725-1774) کانام سرفہرست ہے ۔1743میں جبکہ اس کی عمر 18سال تھی، وہ ایسٹ انڈیاکمپنی کے ایک کلرک کی حیثیت سے مدراس آیا۔ اس وقت اس کی تنخواہ صرف پانچ پونڈ سالانہ تھی۔

Tuesday, 15 November 2011

وقت کی قدروقیمت


وقت کی قدروقیمت

محمد بشیر جمعہ

۱۔    عامر بن قیس ایک زاہد تابعی تھے۔ ایک شخص نے ان سے کہا ’’آؤ بیٹھ کر باتیں کریں۔‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’تو پھر سورج کو بھی ٹھہرالو۔‘‘ یعنی زمانہ تو ہمیشہ متحرک رہتا ہے اور گزرا ہوا زمانہ واپس نہیں آتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے کام سے غرض رکھنی چاہیے اور بے کارباتوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
۲۔   شیخ محمد بن سلام البیکندی، امام بخاریؒ کے شیوخ میں سے تھے۔ ایک دفعہ ان کا قلم ٹوٹ گیا تو انہوں نے صدا لگائی کہ مجھ کو نیا قلم ایک دینار میں کون دیتاہے۔ لوگوں نے ان پر نئے قلموں کی بارش کردی۔ یہ ان کی دریا دلی کا حال تھا کہ وہ ایک قلم کو ایک دینار(اس دور کی خطیر رقم) کے بدلے خریدلیتے تاکہ لکھتے لکھتے ان کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو اور ان کے خیالات کا تسلسل جاری رہے۔